Friday, June 10, 2016

اقبال کا شاہین

اقبال کی شاعری میں جن تصورات نے علامتوں کا لباس اختیار کیا ہے ان میں شاہین کا تصور ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ 

اقبال نے اپنی شاعری میں شاہین کو ایک خاص علامت کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ اور ان کا محبوب پرندہ ہے۔ اقبال کے ہاں اس کی وہی اہمیت ہے جو کیٹس کے لئے بلبل اور شیلے کے لئے سکائی لارک کی تھی، بلکہ ایک لحاظ سے شاہین کی حیثیت ان سے زیادہ بلند ہے کیونکہ شاہین میں بعض ایسی صفات جمع ہوگئی ہیں۔ جو اقبال کی بنیادی تعلیمات سے ہم آہنگ ہیں یوں تو اقبال کے کلام میں جگنو، پروانہ، طاوس، بلبل، کبوتر، ہرن وغیرہ کا ذکر آیا ہے۔ لیکن ان سب پر شاہین کو وہ ترجیح دیتے ہیں۔ اقبال نے تشبیہات و استعارات میں بلبل و قمری کے بجائے باز اور شاہین کو ترجیح دی ہے۔ ڈاکٹر یوسف خان لکھتے ہیں کہ،
” اقبال کے وجدان اور جذبات شعری کو جو چیز سب سے زیادہ متحرک کرتی ہے۔ وہ مظہر ”قوت“ ہے یہی وجہ ہے کہ وہ بلبل اور قمری کی تشبیہوں کی بجائے باز اور شاہین کو ترجیح دیتا ہے۔“
اقبال کے ہاں شاہین مسلمان نوجوان کی علامت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ اقبال کو جمال سے زیادہ جلال پسند ہے اقبال کو ایسے پرندوں سے کوئی دلچسپی نہیں جن کی اہمیت صرف جمالیاتی ہے یا جو حرکت کے بجائے سکون کے پیامبر ہیں،

کر بلبل و طاوس کی تقلید سے توبہ 

بلبل فقط آواز ہے، طاوس فقط رنگ

اقبال کو شاہین کی علامت کیوں پسند ہے اس سلسلے میں خود ہی ظفر احمد صدیقی کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں۔
” شاہین کی تشبیہ محض شاعرانہ تشبیہ نہیں ہے اس جانور میں اسلامی فقر کی تمام خوصیات پائی جاتی ہیں۔ خود دار اور غیرت مند ہے کہ اور کے ہاتھ کا مارا ہو شکار نہیں کھاتا ۔ بے تعلق ہے کہ آشیانہ نہیں بناتا۔ بلند پرواز ہے۔ خلوت نشین ہے۔ تیز نگاہ ہے۔

اقبال کے نزدیک یہی صفات مردِ مومن کی بھی ہیں وہ نوجوانوں میں بھی یہی صفات دیکھنا چاہتا ہے۔ شاہین کے علاوہ کوئی اور پرندہ ایسا نہیں جو نوجوانوں کے لئے قابل تقلید نمونہ بن سکے اُردو کے کسی شاعر نے شاہین کو اس پہلو سے نہیں دیکھا” بال جبریل“ کی نظم ”شاہین“میں اقبال نے شاہین کو یوں پیش کیا ہے۔

شاہین

کیا میں نے اس خاکداں سے کنارا

جہاں رزق کا نام ھے آب و دانہ

بیاباں کی خلوت خوش آتی ھے مجھ کو

ازل سے ھے فطرت میری راہبانہ

نہ باد بہاری، نہ گل چیں ، نہ بلبل

نہ بیماریء نغمہ ء عاشقانہ

خیابانیوں سے ھے پرہیز لازم

ادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہ

ہواءے بیاباں سے ہوتی ھے کاری

جوانمرد کی ضربت غازیانہ

حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں میں

کہ ہے زندگی باز کی زاھدانہ

جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا

لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

یہ پورب، یہ پچھم، چکوروں کی دنیا

مرا نیلگوں آسماں بیکرانہ

پرندوں کی دنیا کا درویش ھوں میں

کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ

اقبال نے شاہین میں پانچ صفات ملاحظہ کیں ہیں، انہوں نے مسلم نوجوانوں میں بھی ان پانچ خصوصیات کو پیدا کرنے کی تلقین کی ہے۔

1۔ بلند پرواز

2۔ تیز نگاہ

3۔ خلوت پسند

4۔ آشیانہ نہیں بناتا

5۔ دوسرے کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا

Tuesday, June 7, 2016

مغفرت کی خنک ہوائیں ہیں

مغفرت کی خنک ہوائیں ہیں
رات ہے شبنمی فضائیں ہیں

چاندنی آسماں سے لائی ہے
ہم نفس سن یہ کیا صدائیں ہیں

آنکھ کی جھیل میں ستارے ہیں 
دل میں یادوں کی کہکشائیں ہیں 

یہ سرہانے رکھی ہوئی میرے 
کچھ دعائیں ہیں التجائیں ہیں 

شرمساری لکھی ہے چہرے پر 
میں نے پہنی ہوئی خطائیں ہیں

اے رحیم و غفور اے شاہد 
بے حساب آپ کی عطائیں ہیں 

Saturday, May 28, 2016

رباعیات اسماعیل میرٹھی


انسان کو چاہیے نہ ہمت ہارے
میدان طلب میں ہاتھ بڑھ کر مارے
جو علم و ہنر میں لے گئے ہیں بازی
ہر کام میں ہیں انہیں کے وارے نیارے

گَر نیک دلی سے کچھ بھلائی کی ہے
یا بد منشی سے کچھ برائی کی ہے
اپنے ہی لئے ہے سب نہ اوروں کے لئے
اپنے ہاتھوں نے جو کمائی کی ہے

Sunday, May 22, 2016

حب دنیا اور اسلاف پر فخر/ رباعیات اسماعیل میرتھی


حب دنیا نشان خامی ہے


یہ قول کسی بزرگ کا سچا ہے
ڈالی سے جدا نہ ہو تو پھل کچا ہے
چھوڑی نہیں جس نے جب دنیا دل سے
گو ریش سفید ہو مگر بچا ہے


اسلاف پر فخر بیجا


اسلاف کا حصہ تھا اگر نام و نمود
پڑھتے پھرو اب ان کے مزاروں پہ درود
کچھ ہاتھ میں نقد رائج الوقت بھی ہے
یا اتنی ہی پونجی، پدرم سلطاں بود

Saturday, May 21, 2016

میرا رب۔ بچوں کی نظم

مرا رب


یہ بادِ صبا کون چلاتا ہے، مرا رب

گلشن میں کلی کون کھلاتا ہے، مرا رب

مکھی کو بھلا شہد بنانے کا سلیقہ

تم خود ہی کہوں کون سکھاتا ہے، مرا رب

برساتا ہے بادل کو اثرؔ خشک زمیں پر

گل بوٹے کہوں کون اگاتا ہے، مرا رب

خوشحال کو خوشحال کیا کس نے بتاؤ

غمگین کا غم کون مٹا ہے، مرا رب

مانا کہ سما سکتا نہیں ارض و سما میں

پر ٹوٹے ہوئے دل میں سماتا ہے مرا رب

اک پردۂ شب کو گراتا ہے سرِ شام

سورج کا دیا کون جلاتا ہے، مرا رب

صحرا کو مزین وہ بناتا ہے جبل سے

گلشن کو بھی پھولوں سے سجاتا ہے مرا رب

خود کھانے و پینے سے مبرا و منزہ

گو سب کو کھلاتا ہے پلاتا ہے مرا رب

ہے کون جو حاکم ہے بلا شرکتِ غیرے

یہ نظم و نسق کون چلاتا ہے مرا رب

ستّار ہے عاصی کو وہ رسوا نہیں کرتا

بندے کے معائب کو چھپاتا ہے مرا رب

ولیوں سے کبھی خالی نہیں رہتی ہے دنیا

اک جائے تو دوجے کو بٹھاتا ہے مرا رب

Wednesday, May 18, 2016

ماں جھوٹ بول بول کے جنت میں جائے گی

ماں جھوٹ بول بول کے جنت میں جائے گی

شاعر ،،،،فرحان دل

کھانا ہمیشہ وقت سے پہلے پکائے گی
ہاتھوں سے اپنے سب کو نوالے کھلائے گی
بچوں سے یہ کہے گی "مجھے بھوک ہی نہیں"
بھوکی رہے گی پھر بھی بہانے بنائے گی
کھانا اگر بچے گا تو آخر میں کھائے گی
ماں جھوٹ بول بول کے جنت میں جائے گی

تہوار ہو تو جائے گی لوگوں کے پاس یہ
لائے گی اپنے بچوں کی خاطر لباس یہ
ہونے نہ دے گی اوروں کو احساس کرب کا
ہر غم اکیلے سہہ کے رہے گی اداس یہ
اپنی تمام خواہشیں دل میں دبائے گی
ماں جھوٹ بول بول کے جنت میں جائے گی

بیمار ہو تو درد چھپاتی رہے گی یہ
اور خود کو تندرست بتاتی رہے گی یہ
کوشش کرے گی خوش نظر آنے کی ہر گھڑی
لہجے کوبھی شگفتہ بناتی رہے گی یہ
جب بھی نظر ملائے گی یہ مسکرائے گی
ماں جھوٹ بول بول کے جنت میں جائے گی

غربت میں کب یہ چین سے سوئے گی رات بھر
بستر میں منہ چھپا کے یہ روئے گی رات بھر
اللہ سے دعاؤں میں مانگے گی سب کا سکھ
تکیے کو آنسوؤں سے بھگوئے گی رات بھر
سوجی ہوئی نگاہوں کو سب سے چھپائے گی
ماں جھوٹ بول بول کے جنت میں جائے گی

بیٹے گئے جو دور تو دے گی دعائیں خوب
تصویر ان کی دیکھ کے لے گی بلائیں خوب
خط میں لکھے گی میں یہاں بالکل مزے میں ہوں
ہر دم دعا کرے گی کہ بیٹے کمائیں خوب
بیٹوں کا خط نہ آئے مگر یہ سنائے گی
ماں جھوٹ بول بول کے جنت میں جائے گی

بیٹے بھلے ہی لاکھ ستاتے رہیں اسے
اعمال ان کے خون رلاتے رہیں اسے
بیوی کے ناز نخرے اٹھانے کے شوق میں
تا عمر بے وقوف بناتے رہیں اسے
ہر حال میں انہیں بہت اچھا بتائے گی
ماں جھوٹ بول بول کے جنت میں جائے گی

Saturday, May 14, 2016

سر تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے


عدم سے جانبِ ہستی تلاشِ یار میں آئے
کھلی آنکھیں تو دیکھا، وادیٔ پُر خار میں آئے
یقیں ہے کچھ نہ کچھ رحمت مزاجِ یار میں آئے
ادب سے ہاتھ باندھے ہم ترے دربار میں آئے​
اگر بخشے زہے رحمت نہ بخشے تو شکایت کیا
سرِ تسلیم خم ہے، جو مزاجِ یار میں آئے
نہ پوچھو اہلِ محشر ہم سے دیوانہ کی بیتابی
یہاں مجمع سنا، یاں بھی تلاشِ یار میں آئے
عدم کے جانے والو! بزمِ جاناں تک اگر پہنچو
ہمیں بھی یاد رکھنا، ذکر جو دربار میں آئے
نہ مانگو بوسہ اے آتشؔ بگاڑے منہ وہ بیٹھے ہیں
قیامت ہے اگر بَل ابروئے خمدار میں آئے

خواجہ حیدر علی آتشؔ​