Sunday, August 21, 2022
عدم کے جانے والو! بزمِ جاناں تک اگر پہنچو
Wednesday, May 31, 2017
دیوبند کا خمیر
ایک شاعر کی "شہر دیوبند " پر تنقید اور مولانا عامر عثمانی رحمہ اللہ کا جواب !
تنقید :
دغا کی دال ہے ۔ یاجوج کی ہے ”یا“ اس میں
وطن فروشی کا ”واؤ“ بدی کی “ب“ اس میں
جو ان کے ”نون“ میں نار جحیم غلطاں ہے
تو اس کی ”دال“ سے دہقانیت نمایاں ہے
ملے یہ حرف تو بے چارہ دیوبند بنا
برے خمیر سے یہ شہر ناپسند بن
------------------------
جواب :
دعا کی ’’دال‘‘ کو کہتے ہو تم دغا کی ہے
علاج چشم کراؤ بڑی خطا کی ہے
یہ ’’دال‘‘ دولت دنیا و دیں سے ہے معمور
دماغ و دیدۂ دل اس سے ہو گئے پرنور
غضب ہے ’’یا‘‘ تمہیں یاجوج کی نظر آئی
ضرور ڈوب گئی ہے تمہاری بینائی
نظر جماؤ کہ یاد خدا کی ’’یا‘‘ ہے یہ
یقین و یثرب و یمن و صفا کی ’’یا‘‘ ہے یہ
کہا جو ’’واو‘‘ کو تم نے ’’وطن فروشی‘‘ کا
ثبوت دے دیا اپنی گناہ کوشی کا
ادب کرو کہ وضو کا وفا کا ’’واؤ‘‘ ہے یہ
وقار و وعظ و وصال خدا کا ’’واؤ‘‘ ہے یہ
بدی کی ’’با‘‘ جسے کہتے ہو تم شرارت سے
وہ ہے بہشت بریں برکت و بہار کی ’’بے‘‘
جو تم نے ’’نون‘‘ میں نار جحیم ہی دیکھی
تو کیا قصور، تمہاری تو عاقبت ہے یہی
سنو کہ ’’نون‘‘ ہے ’’نزہت و نفاست‘‘ کا
نماز و نعت کا نیکی کا نور و نعمت کا
جو تم نے ’’دال‘‘ میں دہقانیت کی بو سونگھی
تو سمجھو اپنی غلاظت ہی ہو بہو سونگھی
ارے یہ ’’دال‘‘ دیانت کی دوستی کی ہے
درود کی ہے دوا کی ہے دل کشی کی ہے
بڑے پاک عناصر سے دیوبند بنا
عدو کی جان جلی شہر دل پسند بنا
(تجلی خاص نمبر۔ فروری و مارچ ۵۷ء)
Sunday, May 14, 2017
قصہ علامہ اقبال کی ایک رباعی کا
قصہ علامہ اقبال کی ایک رباعی کا
ایک صدی سے زائد کا عرصہ ہوا۔ ڈیرہ غازی خان کے ترین قبیلے سے تعلق رکھنے والے اللہ داد خان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا۔ اس کا نام محمد رمضان رکھا گیا۔ رمضان ہونہار طالب علم نکلا۔ بی۔ اے کے بعد بی ۔ ٹی کا امتحان پاس کیا اور بطور انگلش ٹیچر سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ طبیعت میں فقیرانہ استغنا بھی تھا اور صوفیانہ بے نیازی بھی ۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے اور سرکار انگلیسیہ کا ملازم ہونے کے باوجود کبھی دیسی لباس ترک نہ کیا۔ چہرہ سنت رسول سے سجا تھا ہمیشہ ہاتھ میں ایک موٹی سوٹی اور کندھے پر بڑا سا تولیہ ڈالے رکھتے۔ فارسی اور اردو کے شعر کہتے ۔ علامہ اقبال کے عشاق میں سے تھے۔ انکے کئی اشعار پہ تضمین کہی جو علامہ نے بہت پسند کی۔ ایک نوجوان، عطا محمد جسکانی سے گہرے لگاؤ کے باعث عطائی تخلص اختیار کیا اور محمد رمضان عطائی کہلانے لگے۔
یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب عطائی ڈیرہ غازی خان کے گورنمنٹ اسکول میں تعینات تھے۔ انہی دنوں ان کے قریبی شناسا مولانا محمد ابراہیم ناگی بھی ڈیرہ غازی خان کے سب جج تھے۔ ابراہیم ناگی ایک درویش منش اور صاحب علم شخصیت تھے۔ مولانا ابراہیم کو علامہ اقبال سے ملاقاتوں کا اعزاز بھی حاصل تھا۔
ایک دن مولانا ابراہیم لاہور گئے علامہ سے ملاقات ہوئی۔ واپس آئے تو سر شام معمول کی محفل جمی۔ علامہ سے ملاقات کا ذکر چلا تو عطائی کا جنوں سلگنے لگا۔ مولانا نے جیب سے کاغذ کا ایک پرزہ نکال کر عطائی کو دکھایا۔ یہ علامہ کی اپنی تحریر تھی۔ مولانا کہنے لگے۔ لو عطائی ! علامہ صاحب کی تازہ رباعی سنو۔ پھر وہ ایک عجب پر کیف انداز میں پڑھنے لگے۔
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
ور حسابم را تو بینی ناگزیر
از نگاہ مصطفےٰ پنہاں بگیر
مولانا کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے لیکن محمد رمضان عطائی کی کیفیت روتے روتے دگرگوں ہو گئی۔ اسی عالم وجد میں فرش پر گرے۔ چوٹ آئی اور بے ہوش ہوگئے۔ رباعی ان کے دل پر نقش ہو کے رہ گئی۔ اٹھتے بیٹھتے گنگناتے اور روتے رہے انہی دنوں حج پر گئے۔ خود اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ جب حجاج اوراد و وظائف میں مصروف ہوتے تو وہ زار و قطار روتے اور علامہ کی رباعی پڑھتے رہتے۔
حج سے واپسی پر دل میں ایک عجب آرزو کی کونپل پھوٹی۔ ”کاش یہ رباعی میری ہوتی یا مجھے مل جاتی“ یہ خیال آتے ہی علامہ اقبال کے نام ایک خط لکھا“ آپ سر ہیں فقیر بے سر۔ آپ اقبال ہیں، فقیر مجسم ادبار۔ لیکن طبع کسی صورت کم نہیں پائی“ انہوں نے علامہ کے اشعار کی تضمین اور اپنے فارسی اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ”فقیر کی تمنا ہے کہ فقیر کا تمام دیوان لے لیں اور یہ رباعی مجھے عطا فرما دیں۔“ کچھ ہی دن گزرے تھے کہ انہیں علامہ کی طرف سے ایک مختصر سا خط موصول ہوا۔ لکھا تھا:
جناب محمد رمضان صاحب عطائی۔ سینئر انگلش ماسٹر۔ گورنمنٹ ہائی اسکول ڈیرہ غازی خان۔
لاہور : 19/ فروری 1937
جناب من: میں ایک مدت سے صاحب فراش ہوں خط و کتابت سے معذور ہوں باقی، شعر کسی کی ملکیت نہیں آپ بلا تکلف وہ رباعی، جو آپ کو پسند آگئی ہے اپنے نام سے مشہور کریں۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔
فقط : محمد اقبال ۔ لاہور
علامہ نے یہ رباعی اپنی نئی کتاب ”ارمغان حجاز“ کے لیے منتخب کر رکھی تھی۔ عطائی کی نذر کر دینے کے بعد انہوں نے اسے کتاب سے خارج کر کے، تقریباً اسی مفہوم کی حامل ایک نئی رباعی کہی جو ”ارمغان حجاز“ میں شامل ہے۔
بہ پایاں چوں رسد ایں عالم پیر
شود بے پردہ ہر پوشیدہ تقدیر
مکن رسوا حضور خواجہ ما را
حساب من زچشم او نہاں گیر
(اے میرے رب! روز قیامت) یہ جہان پیر اپنے انجام کو پہنچ جائے اور ہر پوشیدہ تقدیر ظاہر ہو جائے تو اس دن مجھے میرے آقا و مولا کے حضور رسوا نہ کرنا اور میرا نامہ اعمال آپ کی نگاہوں سے چھپا رکھنا)
ایم اے فارسی کا امتحان دینے لاہور گئے تو عطائی، شکریہ ادا کرنے علامہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہمراہ جانے والے چوہدری فضل داد نے تعارف کراتے ہوئے کہا ”یہ بوڑھا طوطا ایم اے فارسی کا امتحان دینے آیا ہے“ علامہ ایک کھری جھلنگا چار پائی پر احرام نما سفید چادر اوڑھے لیٹے تھے۔ بولے۔ ”عاشق کبھی بوڑھا نہیں ہوتا“ رباعی کا ذکر چل نکلا۔ عطائی نے جذب و کیف سے پڑھنا شروع کیا۔ توغنی از ہر دو عالم“ علامہ کی آنکھوں سے اشک جاری ہو گئے۔ اتنا روئے، اتنا روئے کہ سفید چادر کے پلو بھیگ گئے۔
آخری ملاقات علامہ کے انتقال سے کوئی چار ماہ قبل دسمبر 1937 میں ہوئی۔ انہوں نے علامہ سے کہا ”سنا ہے جناب کو دربار نبوی سے بلاوا آیا ہے“ علامہ آبدیدہ ہو گئے ۔ آواز بھرا گئی۔ بولے ”ہاں ! بے شک لیکن جانا نہ جانا یکساں ہے، آنکھوں میں موتیا اتر آیا ہے، یار کے دیدار کا لطف دیدہ طلبگار کے بغیر کہاں۔“ عطائی نے کہا ”جانا ہو تو دربار نبوی میں وہ رباعی ضرور پیش فرمائیے گا۔ جو اب میری ہے“ علامہ زار و قطار رونے لگے۔ سنبھلے تو کہا ”عطائی ! اس رباعی کو بہت پڑھا کرو۔ ممکن ہے خداوند کریم مجھے اس کے طفیل بخش دے“۔
1938 میں علامہ انتقال فرما گئے۔ عرصہ بعد شاہی مسجد کے احاطے میں ان کے مزار کی تعمیر شروع ہوئی تو ہر ہفتے اور اتوار کو ایک مجذوب شخص لاٹھی تھامے مسجد کی سیڑھیوں پر آبیٹھتا اور شام تک موجود رہتا۔ وہ زیر تعمیر مزار پہ نظریں گاڑے ٹک ٹک دیکھتا رہتا۔ کبھی یکایک زاری شروع کر دیتا۔ کبھی طواف کے انداز میں مزار کے چکر کاٹنے لگتا۔ اس کا نام محمد رمضان عطائی تھا۔
مولانا محمد ابراہیم ناگی کبھی کبھی کہا کرتے ”ظالم عطائی! کان کنی تو میں نے کی اور گوہر تو اڑا لے گیا۔ بخدا اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ حضرت غریب نواز (علامہ اقبال) اتنی فیاضی کریں گے تو میں اپنی تمام جائیداد دے کر یہ رباعی حاصل کر لیتا اور مرتے وقت اپنی پیشانی پر لکھوا جاتا“۔
محمد رمضان عطائی، سینئر انگلش ٹیچر 1968 میں اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ انہوں نے اپنی وصیت میں لکھا۔ ”میرے مرنے پر اگر کوئی وارث موجود ہو تو رباعی مذکور میرے ماتھے پہ لکھ دینا اور میرے چہرے کو سیاہ کر دینا۔“ مجھے معلوم نہیں کہ پس مرگ ان کے کسی وارث نے اس عاشق رسول کی پیشانی پہ وہ رباعی لکھی یا نہیں لیکن ڈیرہ غازی خان کے قدیم قبرستان ”ملا قائد شاہ“ میں کوئی بیالیس برس پرانی ایک قبر کے سرہانے نصب لوح مزار پر کندہ ہے۔
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
ور حسابم را تو بینی ناگزیر
از نگاہ مصطفےٰ پنہاں بگیر
اے اللہ ! تو دوجہانوں کو عطا کرنے والا ہے جبکہ میں تیرا منگتا و فقیر ہوں، روزِ محشر میری معذرت کو پذیرائی بخش کر قبول فرمانا (اور مجھے بخش دینا) اگر (پھر بھی) میرے نامہ اعمال کا حساب نا گزیر ہوتو پھر اے میرے مولیٰ ! اسے میرے آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھنا۔
(کیونکہ میں ایک گنہگار امتی کی حیثیت سے اپنے آقا کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتا)
Thursday, January 12, 2017
چند رباعیات
مسجد میں تو شیخ کو خروشاں دیکھا
میخانہ میں جوشِ بادہ نوشاں دیکھا
یک گوشۂ عافیت جہاں میں ہم نے
دیکھا سو محلّۂ خموشاں دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بندوں کو ضرور اپنے صلہ دیتا ہے
دیتا ہے، طلَب سے بھی سوا دیتا ہے
تُو مانگنے والوں کی طرح مانگ کے دیکھ
ہر مانگنے والے کو خدا دیتا ہے
(نثار اکبر آبادی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھا جوش و خروش اتّفاقی ساقی
اب زندہ دِلی کہاں ہے باقی ساقی
میخانے نے رنگ روپ بدلا ایسا
میکش میکش رہا، نہ ساقی ساقی
(ابوالکلام آزاد)
Monday, December 19, 2016
تمام والدین اور بچوں کے لئے
تمام والدین اور بچوں کے لئے .
یہ کچھ ضروری باتوں کی فہرست ہے. جو تمام والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو بتائیں اور سکھائیں
1. ہمیشہ لڑکیوں کو خبردار کریں کہ وہ کسی بھی مرد کی گود میں نہ بیٹھیں. چاہے وہ رشتے میں کچھ بھی لگتا ہو.
2 . دو سال کی عمر سے بچوں کو سکھائیں کہ وہ کسی کے سامنے لباس نہ بدلیں. خاص طور پر لڑکیوں کو ہمیشہ اس بات پر سختی سے عمل کرنا چاہیے.
3. کسی کو بھی ہرگز یہ اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کے بچوں کو "میری بیوی، میرا شوہر، میری بہو، میرا داماد" کہہ کر تعرف کروانے. جیسا کہ آجکل اکثر فیملی بچوں کی پیدائش کے بعد ہی ان کہ رشتوں کی خواہش ظاہر کی جاتی ہے کہ فلاں کو میں اپنی بہو بناؤں گی یا فلاں کو میں اپنی بیٹی دوں گی.
4 . جب بھی آپ کے بچے باہر کھیلنے جائیں یا دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلیں تو ان پر نظر رکھیں کہ وہ کس طرح کے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہیں اور کس قسم کا کھیل کھیلتے ہیں. کیونکہ آجکل بچے جنسی طور پر ہراساں کیے جاتے ہیں.
5. کبھی بھی اپنے بچوں کو کسی بالغ کے پاس جانے پر مجبور نہ کریں اگر وہ نہ جانا چاہیں تو. اس بات کا سختی سے خیال رکھیں کہ کہیں آپ کا بیٹا یا بیٹی کسی بھی بالغ مرد یا عورت کے ساتھ زیادہ قریب تو نہیں یا اس کے پاس جانے کے لئے ضد تو نہیں کرتے.
6 . اگر آپکا بچہ جو ہمیشہ ہنستا مسکراتا اور خوش رہے لیکن اچانک چپ لگ جانے اور گم سم رہنے لگے تو اس سے بہت سارے سوالات پوچھیں اور پوری طرح سے بات کی تصدیق کریں. ہو سکتا ہے کسی نے اسے ہراساں کیا ہو.
7. . اس بات کا ہمیشہ خاص خیال رکھیں کہ جب بھی آپ بچوں کے لئے کوئی فلم یا کارٹون لاتے ہیں تو پہلے اسے خود دیکھ کر چیک کر لیں کہ کہیں اس میں کوئی جنسی مواد نہ ہو جو بچوں کے ذہن پر اثر کرے.
8.. اپنے جوان ہوتے ہوے بچوں کو بہت ہی احتیاط سے سیکس کے بارے میں تعلیم دیں اور اچھائی برائی میں فرق کرنا سکھائیں. ورنہ معاشرہ ان کو غلط اقدار سکھا دے گا اور وہ اچھائی برائی میں فرق کرنا بھول جائیں گے.
9. اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے گھر میں کیبل نیٹ ورک پر پیرینٹل کنٹرول ایکٹو ہے اور کوئی بھی سیکسی یا رومانٹک پروگرام نہ چل سکے جس سے بچوں کے ذہن پر اثر پڑے اور اپنے ان دوستوں اور رشتےداروں کو بھی خبردار کریں اس بات سے جہاں آپ کے بچے اکثر جاتے ہیں.
10. اپنے تین سال کے بچوں کو اچھی طرح سے سمجھا دیں کہ کس طرح اپنی شرمگاہ کو مناسب طریقے سے دھونا ہے. ان کو سختی سے خبردار کریں کہ وہ اپنی شرمگاہ کو اور اپنے جسم کے کن حصوں کو چھپا کر رکھیں اور کبھی کسی کو چھونے مت دیں. اور اس بات پر سب سے آپ خود عمل کرنا شروع کریں.
11. کسی بھی قسم کی ایسی چیزیں یا ایسے لوگ جن سے آپ کے بچوں کو کوئی ڈر یا خوف محسوس ہوتا ہو یا ان کے ساتھ بچوں کا دل مطمئن نہ ہوتا ہو تو ایسی تمام چیزوں اور ایسے تمام لوگوں سے ہمیشہ کے لئے تعلق ختم کر دیں. ایسی چیزوں میں کوئی گانے ڈرامے فلم یا کارٹون ہو سکتے ہیں اور ایسے لوگوں میں آپ کے کوئی دوست یا رشتےدار بھی ہو سکتے ہیں.
12. اگر ایک بار بھی آپ کے بچے کو کسی خاص شخص سے کوئی شکایت ہے تو اس پر چپ مت رہیں. کیس اپنے ہاتھ میں لیں اور اس کی شکایت پر ایکشن لیں تا کہ اسے یقین ہو کے اس کا دفاع بہت اچھا کر سکتے ہیں.
13. اپنے بچوں کو لوگوں کے رش اور بھیڑ سے دور رہ کر اقدار کو سمجھنے دیں. ان کو کبھی بھی زبردستی لوگوں میں ملوث مت کریں.
ہم والدین ہیں یا ہونے جا رہے ہیں.
لیکن یاد رکھیں کہ "درد زندگی بھر رہتا ہے"
Sunday, October 9, 2016
ہارون رشید کی دو کنیزیں ۔
ہارون الرشید کو ایک لونڈی کی ضرورت تهی، اس نے اعلان کیا کہ مجهے ایک لونڈی درکار ہے،اس کا یه اعلان سن کر اس کے پاس دو لونڈیاں آئیں اور کہنے لگیں ہمیں خرید لیجیے! ان دونوں میں سے ایک کا رنگ کالا تها ایک کا گورا.
هارون الرشید نے کہا مجهے ایک لونڈی چاهیے دو نہیں.
گوری بولی تو پهر مجهے خرید لیجیے حضور! کیونکہ گورا رنگ اچها ہوتا ہے...
کالی بولی حضور رنگ تو کالا ہی اچها ہوتا هے آپ مجهے خریدیے.
ہارون الرشید نے ان کی یہ گفتگو سنی تو کہا. اچها تم دونوں اس موضوع پر مناظرہ کرو کہ رنگ گورا اچها ہے یا کالا؟
جو جیت جائے گی میں اسے خرید لونگا..
دونوں نے کہا بہت اچها! چنانچہ دونوں کا مناظرہ شروع ہوا
اور کمال یہ ہوا کہ دونوں نے اپنے رنگ کے فضائل و دلائل عربی زبان میں فی البدیہ شعروں میں بیان کیے. یہ اشعار عربی زبان میں هیں مگر مصنف نے ان کا اردو زبان میں منظوم ترجمہ کیا ہے، لیجئے آپ بهی پڑهئے اور غور کیجئے کہ پہلے زمانے میں لونڈیاں بهی کس قدر فہم و فراست کی مالک ہوا کرتی تهیں
گوری بولی:
''موتی سفید ہے اور قیمت ہے اس کی لاکهوں،
اور کوئلہ ہے کالا پیسوں میں ڈهیر پالے''
(بادشاہ سلامت ! موتی سفید ہوتا ہے، اور کس قدر قیمتی هوتا ہے، اور کوئلہ جو کہ کالا ہوتا ہے کس قدر سستا ہوتا ہے کہ چند پیسوں میں ڈهیر مل جاتا ہے)
اور سنیے؛
''اللہ کے نیک بندوں کا منہ سفید ہوگا،
اور دوزخی جو ہونگے،منہ ان کے هونگے کالے''
بادشاه سلامت اب آپ ہی انصاف کیجیے گا کہ رنگ گورا اچها ہے یا نہیں؟
بادشاہ ''گوری'' کے یہ اشعار سن کر بڑا خوش ہوا
اور پهر کالی سے مخا طب ہوکر کہنے لگا. سنا تم نے؟؟ اب بتاو کیاکہتی ہو؟؟
کالی بولی حضور!
''ہےمشک نافہ کالی قیمت میں بیش عالی،
ہے روئی سفید اور پیسوں میں ڈهیر پالی''
(کستوری کالی ہوتی ہے، مگر بڑی گراں قدر اور بیش قیمت مگر روئی جع کہ سفید ہوتی ہے، بڑی سستی مل جاتی ہے اور چند پیسوں میں ڈهیر مل جاتی ہے)
اور سنیے؛
''آنکهوں کی پتلی کالی ہے نور کا وہ چشمہ،
اور آنکهہ کی سفیدی ہے نور سے وہ خالی''
بادشاه سلامت اب آپ ہی انصاف کیجیے کہ رنگ کالا اچها ہے یا نہیں؟؟ کالی کے یہ اشعار سن کر بادشاہ اور بهی زیادہ خوش ہوا اور پهر گوری کی طرف دیکها تو فورا بولی:
''کاغذ سفید ہیں سب قرآن پاک والے''
کالی نے جهٹ جواب دیا:
''اور ان پہ جو لکهے ہیں قرآں کے حرف کالے''
گوری نے پهر کہا کہ:
''میلاد کا جو دن ہے روشن وہ بالیقیں ہے''
کالی نے جهٹ جواب دیا کہ:
''معراج کی جو شب هے کالی هے یا نہیں ہے؟؟''
گوری بولی کہ:
''انصاف کیجیے گا، کچهہ سوچیے گا پیارے!
سورج سفید روشن، تارے سفید سارے''
کالی نے جواب دیا کہ:
''ہاں سوچیے گا آقا! ہیں آپ عقل والے،
کالا غلاف کعبہ، حضرت بلال کالے''
گوری کہنے لگی کہ
''رخ مصطفے ہے روشن دانتوں میں ہے اجالا''
کالی نے جواب دیا
''اور زلف ان کی کالی کملی کا رنگ کالا''
بادشاہ نے ان دونوں کے یہ علمی اشعار سن کر کہا. کہ مجهے لونڈی تو ایک درکار تهی مگر میں تم دونوں ہی کو خرید لیتا ہوں.
Monday, August 29, 2016
انٹرنیٹ اور عاشق
نیٹ ایجاد ہوا ہجر کے ماروں کے لیے
سرچ انجن ہے بڑی چیز کنواروں کے لیے
جس کو صدمہ شبِ تنہائی کے ایام کا ہے
ایسے عاشق کے لیے نیٹ بہت کام کا ہے
نیٹ فرہاد کو شیریں سے ملا دیتا ہے
عشق انسان کو گوگل پہ بٹھا دیتا ہے
ٹیکسٹ میں لوگ محبت کی خطا بھیجتے ہیں
گھر بتاتے نہیں آفس کا پتہ بھیجتے ہیں
عاشقوں کا یہ نیا طور نیا ٹائپ ہے
پہلے چلمن ہوا کرتی تھی اب اسکائپ ہے
عشق کہتے ہیں جسے اک نیا سمجھوتا ہے
پہلے دل ملتے تھے اب نام کلک ہوتا ہے
دل کا پیغام جب ای میل سے مل جاتا ہے
میل ہر چوک پہ فی میل سے مل جاتا ہے
عشق کا نام فقط آہ و فغاں تھا پہلے
ڈاک خانے میں یہ آرام کہاں تھا پہلے
آئی ڈی جب سے ملی ہے مجھے ہمسائی کی
اچھی لگتی ہے طوالت شبِ تنہائی کی
فیس بک کوچۂ جاناں سے ہے ملتی جلتی
ہر حسینہ یہاں مل جائے گی ہلتی جلتی
یہ موبائل کسی عاشق نے بنایا ہو گا
اس کو محبوب کے ابا نے ستایا ہو گا
ٹیکسٹ جب عاشقِ برقی کا اٹک جاتا ہے
طالبِ شوق تو سولی پہ لٹک جاتا ہے
آن لائن ترے عاشق کا یہی طور سہی
تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی
Tuesday, August 16, 2016
منشی شنکر لال ساقی اور منشی درگا سہائے سرور جہاں آبادی
منشی شنکر لال ساقی
سب سے پہلے غیر مسلم نعت گو شاعر منشی شنکر لال ساقی(متوفی 1890ء) ہیں۔ انہوں نے فارسی اور اُردو دونوں زبانوں میں شعر کہے ہیں۔ان کے نعتیہ کلام میں سے بطور نمونہ دو اشعاریہ ہیں:
جیتے جی روضہء اقدس کو نہ آنکھوں نے دیکھا
روح جنت میں بھی ہو گی تو ترستی ہو گی
نعت لکھتا ہوں مگر شرم مجھے آتی ہے
کیا مری ان کے مدح خوانوں میں ہستی ہو گی
منشی درگا سہائے سرور جہاں آبادی (المتوفی1910ء) نے بھی سرور کائناتﷺ کی تعریف و توصیف میں سخن آرائی کی اور نعت کے موضوع پر ایک کتاب پرچہ درشانِ محمد مصطفیﷺ لکھی۔جو 1905ء میں منصہ مشہود پر جلوہ گر ہوئی اس کتاب سے ایک اقتباس پیشِ خدمت ہے ۔
دلِ بے تاب کو سینے سے لگالے آ جا
کہ سنبھلتا نہیں کم بخت سنبھالے آ جا
پاؤں ہیں طولِ شب غم نے نکالے آ جا
خواب میں زلف کو مکھڑے سے لگا لے آ جا
بے نقاب آج تو اے گیسوؤں والے آ جا
نہیں خورشید کو ملتا ترے سایے کا پتہ
کہ بنا نورِ ازل سے ہے سراپا تیرا
اﷲ اﷲ ترے چاند سے مکھڑے کی ضیا
کون ہے ماہِ عرب کون ہے محبوبِ خدا
اے دو عالم کے حسینوں سے نرالے آ جا
ہندو. شاعر، نعت پاک اور بینائی کی واپسی
ہندو. شاعر، نعت پاک اور بینائی کی واپسی
ایک رسالے میں نظر سے گزرا تھا کہ ایک مرتبہ شیخ المشائخ حضرت خواجہ خان محمد صاحبؒ نے جناب نبی کریم ﷺ کاذکرِ خیرکیا اور فرمایا کہ آپ رحمۃ للعالمین تھے ۔ صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ تمام مخلوقات اور تمام غیر مسلموں کے لئے بھی رحمت ہیں ۔ ایک ہندو شاعر ( شاید بھیم داس نرائن) حج کے موسم میں ایک حاجی کے پاس کسی کی مدد سے پہنچا کیونکہ وہ نابینا ہو چکا تھا ، حاجی کو بتایا کہ میں ہندوہوں لیکن نبی کریم ﷺ رحمۃ للعالمین ہیں ، مجھے امید ہے اللہ تعالیٰ مجھے اس رحمت سے محروم نہیں رکھیں گے ۔ لہٰذا میں ایک نعت لکھ کر لایا ہوں یہ حضور اقدس ﷺ کے روضۂ اطہر پر پڑھنا ، میں آپ کا ممنون ہوں گا ۔ کافی دنوں بعد یہ ہندو اپنی محفل میں بیٹھا تھا کہ اچانک کہنے لگا کہ آج میر ی نعت روضۂ اطہر پر پڑھی جا رہی ہے ۔ لوگوں نے پوچھا : کیسے محسوس ہوا ؟ ہندو نے جواب دیا کہ میری نظر واپس آرہی ہے ، جب نعت پوری ہوئی تو نظر بھی پوری واپس آگئی ۔ اس نعت کا ایک شعر یہ ہے ـ:
تجھ کو ناز ہے جنت پہ اے رضوان !
کیا چیز ہے وہ روضۂ اطہر کے سامنے
بندہ نے اس ہندو شاعر کی مکمل نعت شریف کی جستجو کی ‘ جو مل گئی ۔شاعر کا اصل نام اثیم داس ہے اورمکمل اشعار یہ ہیں: ؎
پھیکا ہے نورِ خُر ‘رخِ انور کے سامنے
ہے ہیچ مشک‘ زلفِ معطر کے سامنے
خجلت سے آب آب ہیں نسرین و یاسمین
کیا منہ دکھائیں جا کے گلِ تر کے سامنے
ہے زنگِ معصیت سے سیاہ دل کا آئینہ
کیا اس کو لے کے جائوں سکندر کے سامنے
قسمت کا لکھا مٹ نہیں سکتا کسی طرح
تدبیر کیا کرے گی مقدر کے سامنے
نظرِ کرم ہو آنکھ میں آجائے روشنی
کہنا صبا یہ جا کے پیمبر کے سامنے
شیشہ نہ ہو نہ سنگ ہو‘ چشمہ ہو نور کا
اس کو لگا کے جائوں میں سرور کے سامنے
جس در سے آج تک کوئی لوٹا نہ خالی ہاتھ
دستِ طلب دراز ہے اس در کے سامنے
رضواں تجھے جو ناز ہے جنت پہ اس قدر
کیا چیز ہے وہ روضۂ اطہر کے سامنے
سر پہ ہو ان کا دستِ شفاعت اثیمؔ کے
جس دم کھڑا ہو داورِ محشر کے سامنے
-- منقول۔
Sunday, August 14, 2016
مٹی کی محبت میں
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے
شاعر : افتخار عارف
Saturday, August 13, 2016
سارے جہاں سے اچھا
سارے جہاں سے اچّھا ھندوستاں ہمارا
مشکل بہت ہے لیکن جینا یہاں ہمارا
سب بلبلیں یہ کہ کر خاموش ہو گئی ہیں
کوؤں کے شور میں اب نغمہ کہاں ہمارا
پربت وہ سب سے اونچا غم سے پگھل رہا ہے
معلوم ہے اسے بھی درد نہاں ہمارا
گودی میں کھیلتی ھیں اسکی غلیظ ندیاں
گلشن ہے جن کے با عث اک کوڑا داں ہمارا
ہندوتو نے سکھایا آپس میں بیر رکھنا
الفت کا راگ سارا ہے رائیگاں ہمارا
ہم بے وفا ہی سمجھے جاتے رہے ہیں ابتک
سو بار لے چکے ہیں یہ امتحاں ہمارا
ہر پیڑ پر ہیں الّو قبضہ جمائے بیٹھے
کس شاخ پر بنے گا اب آشیاں ہمارا
عصمت دری،گھٹالے،غارتگری ہے ہر سو
ہے مضحکہ اڑاتا سارا جہاں ہمارا
جنّت نما چمن پر کیونکر خزاں نہ آ یے
اک بلبلوں کا قاتل ہے باغباں ہمارا
دہشت گری کا ہم پر الزام آرہا ہے
اب تو وجود تک ہے انکو گراں ہمارا
ہم کو مٹانے والے سب مٹ گئے جہاں سے
ابتک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا
اقبال آج ہوتے تو آہ آہ کرکے
کہتے بدل گیا ہے ہندوستاں ہمارا....
Monday, August 1, 2016
اعلی حضرت کی چہار زبانی نعت
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا نے چار زبانوں عربی فارسی اُردو ہندی میں یہ نعت لکھی جس کی مثال نہیں ملتی۔*
لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر مثل تو نہ شد پید جانا
جگ راج کو تاج تورے سر سوہے تجھ کو شہ دوسرا جانا
*ترجمہ
آپ کی مثل کسی آنکھ نے نہیں دیکھا نہ ہی آپ جیسا کوئی پیدا ہوا
سارے جہان کا تاج آپ کے سر پر سجا ہے اور آپ ہی دونوں جہانوں کے سردار ہیں
اَلبحرُ عَلاَوالموَجُ طغےٰ من بیکس و طوفاں ہوشربا
منجدہار میں ہوں بگڑی ہے ہواموری نیا پار لگا جانا
* ترجمہ
دریا کا پانی اونچا ہے اور موجیں سرکشی پر ہیں میں بے سروسامان ہوں اور طوفان ہوش اُڑانے والا ہے
بھنورمیں پھنس گیا ہوں ہوا بھی مخلالف سمت ہے آپ میری کشتی کو پار لگا دیں
یَا شَمسُ نَظَرتِ اِلیٰ لیَلیِ چو بطیبہ رسی عرضے بکنی
توری جوت کی جھلجھل جگ میں رچی مری شب نے نہ دن ہونا جانا
* ترجمہ
اے سورج میری اندھیری رات کو دیکھ تو جب طیبہ پہنچے تو میری عرض پیش کرنا
کہ آپ کی روشنی سے سارا جہان منور ہو گیا مگر میری شب ختم ہو کر دن نہ بنی
لَکَ بَدر فِی الوجہِ الاجَمل خط ہالہ مہ زلف ابر اجل
تورے چندن چندر پروکنڈل رحمت کی بھرن برسا جانا
*ترجمہ
آپ کا چہرہ چودھویں کے چاند سے بڑھ کر ہےآپ کی زلف گویا چاند کے گرد ہالہ (پوش)ہے
آپ کے صندل جیسے چہرہ پر زلف کا بادل ہے اب رحمت کی بارش برسا ہی دیں
انا فِی عَطَش وّسَخَاک اَتَم اے گیسوئے پاک اے ابرِ کرم
برسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر بھی گرا جانا
ترجمہ
میں پیاسا ہوں اور آپ کی سخاوت کامل ہے،اے زلف پاک اے رحمت کے بادل
برسنے والی بارش کی ہلکی ہلکی دو بوندیں مجھ پر بھی گرا جا
یَا قاَفِلَتیِ زِیدَی اَجَلَک رحمے برحسرت تشنہ لبک
مورا جیرا لرجے درک درک طیبہ سے ابھی نہ سنا جانا
*ترجمہ*
اے قافلہ والوں اپنے ٹھہرنے کی مدت زیادہ کرو میں ابھی حسرت زدہ پیاسا ہوں
میرا دل طیبہ سے جانے کی صدا سن کر گھبرا کر تیز تیز ڈھڑک رہا ہے
وَاھا لسُویعات ذَھَبت آں عہد حضور بار گہت
جب یاد آوت موہے کر نہ پرت دردا وہ مدینہ کا جانا
ترجمہ
افسوس آپ کی بارگاہ میں حضوری کی گھڑیاں تیزی سے گزر گئی
مجھے وہ زمانہ یاد آتا ہے جب میں سفر کی تکالیف کی پرواہ کئے بغیر مدنیہ آ رہا تھا
اَلقلبُ شَح وّالھمُّ شجوُں دل زار چناں جاں زیر چنوں
پت اپنی بپت میں کاسے کہوں مورا کون ہے تیرے سوا جانا
ترجمہ
دل زخمی اور پریشانیاں اندازے سے زیادہ ہیں،دل فریادی اور چاں کمزور ہے
میراے آقا میں اپنی پریشانیاں کس سے کہوں میری جان آپ کے سوا کون ہے جو میری سنے
اَلروح فداک فزد حرقا یک شعلہ دگر برزن عسقا
مورا تن من دھن سب پھونک دیا یہ جان بھی پیارے جلا جانا
ترجمہ
میری جان آپ پر فدا ہے،عشق کی چنگاری سے مزید بڑھا دیں
میرا جسم دل اور سامان سب کچھ نچھاور ہو گیا اب اس جان کو بھی جلا دیں
بس خامہ خام نوائے رضا نہ یہ طرز میری نہ یہ رنگ مرا
ارشاد احبا ناطق تھا ناچار اس راہ پڑا جانا
ترجمہ
رضا کی شاعری نا تجربہ کاراور قلم کمزور ہے ، میرا طور طریقہ اور انداز ایسا نہیں ہے
دوستوں کے اصرار پر میں نے اس طرح کی راہ اختیار کی یعنی چار زبانوں میں شاعری کی۔